پیر 12 اکتوبر 2026 - 06:07
رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

حوزہ/رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے زیرِ اہتمام بلتی قصیدہ خوانی کی ترویج، تربیت اور اس قدیم مذہبی و ثقافتی روایت کے تحفظ کے لیے محفلِ قصیدہ خوانی در شانِ چہاردہ معصومینؑ کا انعقاد، مشہ بروم ہوٹل سکردو میں کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے زیرِ اہتمام بلتی قصیدہ خوانی کی ترویج، تربیت اور اس قدیم مذہبی و ثقافتی روایت کے تحفظ کے لیے محفلِ قصیدہ خوانی در شانِ چہاردہ معصومینؑ کا انعقاد، مشہ بروم ہوٹل سکردو میں کیا گیا۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

محفل میں بیس سال سے کم عمر نوجوانوں کے درمیان بلتی قصیدہ خوانی کا خصوصی مقابلہ منعقد ہوا، جس کا مقصد نئی نسل میں قصیدہ خوانی کا ذوق پیدا کرنے، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور اسلاف کے علمی و ادبی ورثے کو محفوظ بنانا تھا۔

محفل کی نظامت کاچو بشارت مقپون نے انجام دی۔

تقریب میں رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے سرپرست حاجی فدا محمد ناشاد، مہمانِ خصوصی حجت الاسلام والمسلمین شیخ ذاکر حسین آغا، راجہ آف کھرمنگ کاچو مشرف علی خان، سابق ممبر گلگت بلتستان اسمبلی اقبال بیافو، ڈاکٹر امان علی خان، کاچو منظور، کاچو زاہد خان سمیت راجگان بلتستان، سماجی و ادبی شخصیات، سوشل ایکٹوسٹس اور پریس نمائندگان نے شرکت کی۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

مقابلۂ قصیدہ خوانی میں اخلاق سندوس، اکمل نسیم کتپناہ، مشرف خپلو، سہیل عباس، سراج رضوی، شبیر وارثی، سید نیر عباس سکمیدان، سراج موسوی، مبشر حسن حسن کالونی، محمد حسن اولڈنگ، کاچو حسن خان کھرگڑونگ، کاچو شجاعت حیدرآباد، مطہر مقپون، قیصر اخونذادہ، ثمر عباس، تہذیب بلتستانی، ثاقب سندوس، خواجہ سکندر، خبران، یاسر، علی حسن مرزا، آریان کاظم، اجمل غازی، صالح جلالی، صداقت حسین شگری، علی پرویز شگری، فیضان حوطو، کاچو مہدی خان اور کاچو حامد نے حصہ لیا۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

اس موقع پر پروفیسر طاہر ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلتی قصیدہ خوانی محض اشعار پڑھنے کا فن نہیں، بلکہ ایک پوری علمی، ادبی، مذہبی اور ثقافتی روایت ہے، جس کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں موجود مستند بزرگوں سے استفادہ کرنا چاہیے اور ان کے تجربات و فن سے سیکھنے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلتی قصیدہ خوانی کا اپنا مخصوص اسلوب، فنی خصوصیات اور روایتی حدود و قیود ہیں، جنہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دیگر زبانوں اور ثقافتوں کے اسالیب کی غیر ضروری آمیزش سے اس کا اصل حسن اور انفرادیت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے ک ذاکر حسین آغا کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو ان سے قصیدہ خوانی اور نوحہ خوانی کی تربیت حاصل کرنے کی تلقین کی۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

مقابلے کے نتائج کے مطابق مشرف حسین نے تیسری، خواجہ سکندر نے دوسری، جبکہ سید سراج رضوی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

پروفیسر طاہر ربانی نے تمام شرکاء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی اور مہمانوں نے پوزیشن لینے والے جوانوں کو شیلڈ اور انعامات پیش کئے۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے سرپرست حاجی فدا محمد ناشاد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس نورانی محفل میں شرکت کی توفیق عطا کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

انہوں نے عبادت اور معاشرتی ذمہ داریوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے محفل کے انعقاد کی تجویز اور اس کے انتظامات میں حصہ لینے والے تمام افراد کی کاوشوں کو سراہا۔

رائل فاؤنڈیشن بلتستان کے تحت نوجوانوں کے درمیان شاندار مقابلۂ محفلِ مقاصدہ

آخر میں مہمانِ خصوصی شیخ ذاکر حسین آغا نے کہا کہ راجہ خاندان نے اس نورانی محفل کا انعقاد کرکے اپنے اسلاف اور بزرگوں کے قلم سے تخلیق ہونے والے قصائد کو بھی اہمیت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قصیدہ خوانی اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی مدح و منقبت، فضائل اور تعلیمات کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ایک بابرکت ذریعہ ہے، جبکہ ایسی محافل نئی نسل کو اپنے دینی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے روشناس کرانے اور قدیم ادبی روایات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے رائل فاؤنڈیشن بلتستان اور راجہ خاندان کی کاوشوں کو سراہا اور دعائیہ کلمات کے ساتھ محفل کا اختتام کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha